کنارہ

ہمارا مقصد کچھ خاص نہیں، ہم کچھ ریاضی، شاعری، ٹیکنولوجی اور موسیقی کے بارے میں باتیں کریں گے۔ بس ہلکی پھلکی گپ شپ، ٹینشن نہیں لینی۔

زندگی کیا زندہ دلی کا نام ہے؟

میری کوشش یہ ہے کہ اردو میں لکھوں، دیکھیے کیا بنتا ہے۔ میں ابھی تک اردو رسم الخط کے استعمال سے متعلقہ تمام تکنیکی گتھیاں سلجھا نہیں پایا ہوں، پر امید ہے کہ جلد ہی یہ مسئلہ حل ہو جائے گا۔


ہم ہوئے تم ہوئے کہ میر ہوئے
اس کی زلفوں کے سب اسیر ہوئے

ناروا کہیئے ناسزا کہیئے
کہیئے کہیئے مجھے برا کہیئے

Etiam porta sem malesuada magna mollis euismod. Cras mattis consectetur purus sit amet fermentum. Aenean lacinia bibendum nulla sed consectetur.

عشق در دل ماند و یار از دست رفت ۔۔۔

اگر یہ کہا جائے کہ دنیا میں محبت کے سوا کچھ نہیں رکھا تویہ بہت حد تک ایک نا معقول بات ہو گی۔ منطقی لحاظ سے سوچا جائے تو محبت محض ہمارے احساسات کی بے وقوفی کا نتیجہ ہے۔ ہم اکیلے ہیں، تنہا ہیں، اسی خدا کی طرح جس نے ہمیں پیدا کیا ہے۔ مگر جیسے اس خدا کو بھی تنہائی سے تنگ آ گیا تھا، ہمیں بھی تنہائی کچھ عرصے بعد تنگ کرنا شروع کر دیتی ہے۔ ہم خدا سے خدائی کی طرف لپکتے ہیں۔ مگر کچھ عرصے بعد ہمارے اندر کا خدا ہمیں پھر تنہا کر دیتا ہے ۔۔۔ اکیلا ۔۔۔۔ بالکل تنہا۔

مردوں کا رونا

ہنسنا کسے نہیں آتا؟ ذرا یاد کیجیئے آخری مرتبہ آپ کب ہنسے تھے؟ شائد پانچ منٹ پہلے یا شائد ابھی کچھ دیر پہلے جب آپ فیس بک پر مصروف تھے، آ پ کے کسی نہ کسی دوست نے کوئی نہ کوئی ایسی چیز ضرور شیئر کی ہو گی جس سے آپ کا قہقہہ نکل گیا ہو گا۔ مگر سوال یہ ہے کہ آخری مرتبہ آپ روئے کب تھے؟ شائد بچپن میں ؟ شائد کچھ سال پہلے؟ شائد آپ کو ٹھیک سے یاد بھی نہ ہو۔ مگر ہم بات کر رہے ہیں سنجیدگی سے رونے کی، سوچ سمجھ کر رونے کی، رونے کو کام سمجھ کر رونے کی

یہ مسائل محبت


x = 0; y = 1;
for(i = 0; i < n; i++ )
{
   temp = x + y;
   x = y;
   y = temp;             	
}
	     

In the Desert of my solitude

A translation of Faiz's famous poem "Dasht-e-Tanhai"

It is impossible to do justice while attempting a translation of what may be considered as the most sublime Urdu poem ever, but the poem is so beautiful that it would be equally unfair not to spread it to all the lovers of the world.

Memories (Yaad)

In the desert of my solitude, O the love of my life, quiver
The shadows of thy voice, the mirage of thy lips

In the desert of my solitude, O the love of my life, blossom
Under the dust and dunes of the distance between us
The flowers, the roses of thy touch

From somewhere close by
Rises the warmth of thy breath
Smoldering in its own fragrance - gently, faintly

Far away, on the horizon, glistens
Drop by drop,
The dew of thy intoxicating gaze

With such tenderness, my love
Has your thought placed its hand
on the heart of my heart
Even though it's only but the dawn of our farewell,
It feels like the day of our separation has ended
And the night of our union is at hand.

Faiz Ahmad Faiz (Translated by Mohsin on 17th September, 2015)

Note: The above translation is not very different from the one found on Wikipedia.